آلودگی کے تعلق سے محتاط رہیں سرپرست


آلودگی کے تعلق سے محتاط رہیں سرپرست

آلودگی کے تعلق سے محتاط رہیں سرپرست

بھارت میں آلودگی کی سطح تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے بچوں میں سانس لینے سے متعلق بیماری اور الرجی کی شکایتیں بڑھ رہی ہیں۔ بچوں کی صحت کے لیے والدین کو صحیح احتیاطی تدابیر برتنے کی ضرورت ہے۔ جبکہ آلودگی کی وجہ بہت سے لوگوں کو سانس لینے اور پھیپھڑوں کی بیماریاں ہو رہی ہیں وہیں، ایک تازہ تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ اوسط سے زیادہ طالب علموں کو آنکھوں کی تکلیف اور هائپرٹینشن کی شکایتیں پیدا ہو رہی ہیں۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق چترنجن نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے 2002 سے 2010 کے دوران کیے گئے تجربےمیں پایا گیا کہ ہندستان کے کئی شہروں، خاص طور پر دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح بہت بڑھ گئی ہے۔ بدقسمتی سے فضائی آلودگی کی روک تھام کے لیے سرپرست کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ اس میں سرکاری ایکشن کی ضرورت ہے۔ لیکن سرپرست بنے بچوں کی صحت پر نظر رکھ سکتے ہیں اور آلودگی کے اثرات سمجھ سکتے ہیں۔
چونکہ بچوں کا جسم اور مزاج مدافعت کے طریقہ کار کے لیےمکمل طور پر تیار نہیں ہوتا ،تو وہ متعدی بیماریوں کے شکار جلدی ہو جاتے ہیںاور اسی طرح، ان کے پھیپھڑوں کی بیماریاں بھی ہوتی ہیں، تو وہ آلودگی کےعناصر کو جلد قبول کر لیتے ہیں اور پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ چونکہ بچے زیادہ جسمانی سرگرمیوں اور دالان میں کودنے کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں تاکہ وہ تیز سانس کے ذریعہ زیادہ آلودہ فضا میں سانس لیتے ہیں۔
تحقیق میں مشورہ دیا گیا ہے کہ بچوں کو بلڈ پریشر اور پھیپھڑوں کی جانچ کے لیے باقاعدگی سے چیک اپ کروانا چاہئے۔ مضمون کے مطابق۔
‘دہلی میں اسکول کے بچوں میں پھیپھڑوں سے متعلق بیماری کی شکایتیں بڑھنے کی وجہ سے نو سال سے زیادہ عمر کے تمام بچوں کو سال میں کم از کم ایک بار پھیپھڑوں کی جانچ کروانا چاہئے اور جنہیں پھیپھڑوں سے متعلق شکایتیں ہیں، انہیں مسلسل مانیٹر کیا جانا چاہئے۔ اسکولوں میں جو میڈیکل سہولیات ہیں، ان میں سانس صحت یونٹ مختلف ہونا چاہئے. اس یونٹ میں سپیروميٹر اور تربیت یافتہ ٹیکنیشین ہونے چاہئے۔
آلودگی کی وجہ سے ہونے والے مسائل کی فہرست میں بلڈ پریشر پر اس کا اثر غیر متوقع طور پر دیکھا گیا۔’’دہلی میں بچوں میں هائپرٹنشن کا فیصد بڑھ رہا ہے، ایسے میں اسکولوں، میڈیکل سینٹریا دیگر مقامات پر سال میں کم از کم ایک بار بچوں کو بلڈ پریشر چیک کروائے جانے کی ضرورت ہے۔ هائپرٹنشن یا موٹاپے کے شکار بچوں کے لیے یہ چیک اپ اور کم وقت میں باقاعدگی سے ہونا چاہئے۔ چونکہ هائپرٹیشن کی وجہ دل کا سائز بڑھ جانے یا گردے اور آنکھوں میں دیگر بیماریوں کےہونے کے مسائل بھی ہو سکتےہیں تو ان سب کی جانچ ہوتے رہنا چاہئے۔‘‘
پالیسی اور منصوبہ بندی کے مرحلے پر، اس تحقیق میں مشورہ دیا گیا ہے کہ نئے اسکولوں کی تعمیر کے وقت توجہ دی جائے کہ یہ اسکول بھاری آلودگی والےعلاقوں جیسے فیکٹری یا سڑکوں سے فاصلے پر بنائے جائیں۔

اگر آپ اس مضمون میں دی گئی معلومات کو پسند کرتے ہیں تو برائے مہربانی فیس بک پر
https://facebook.com/FamiLifeUrdu کو لائک اور شیئر کریں کیونکہ اس اوروں کو بھی مطلع کرنے میں مدد ملے گی۔

Leave a comment

Your email address will not be published.