آپ کے نوجوان بچوں( ٹین ایجر) کے لیے 11 ہائی پروٹین ناشتے


आपके टीनेजर के लिए 11 हाई-प्रोटीन स्नैक्स

Photo: Zesmerelda | Wikipedia

آپ کے نوجوان بچوں( ٹین ایجر) کے لیے 11 ہائی پروٹین ناشتے
بغیر سوچے سمجھے کچھ کھانا، ایک ایسی بات ہے جس کے لئے ہم سب کبھی نہ کبھی پچھتاتے ہیں۔ روزمرہ کے کام نپٹاتے ہوئے بھوک لگنے پر ہم اکثر ایک پیکٹ چپس کھا جاتے ہیں۔ لیکن، ہمیں ایک نہیں دو بار سوچنا چاہئے کہ کیا ہم ایسا کر کے اپنے بچوں میں بری عاداتیں پیدا کر رہے ہیں۔ ایک پلیٹ سموسے، فرانسیسی فرائز یا دیگر کوئی جنک فوڈ کے بجائے اپنے بچوں کو صحت بخش ناشتہ (ہائی پروٹین سنیک )دیں۔ بہت تھوڑی سی کوشش کے ساتھ ساتھ آپ اپنے بچوں کو غذائییت سے بھر پور ناشتے دے سکتے ہیں اور بچوں میں ہمیشہ کے لئے صحت بخش کھانے کی عادت پیدا کر سکتے ہیں ۔

دیر دوپہر یا شام ہوتے ہی اکثر بچوں کو بھوک لگتی ہے۔ انہیں دوپہر کا کھانا کھائے ہوئے کافی وقت گزر چکا ہوتا ہے اور رات کے کھانے کے لیے ابھی دو تین گھنٹے کا وقت ہوتا ہے اور وہ کچھ کھانا چاہتے ہیں۔ ایک تحقیق کے دوران محققین نے پایا کہ دوپہر یا شام کے ناشتےمیں سویا فوڈ سے بنے صحت بخش ناشتہ (ہائی پروٹین سنیک) بچوں کو دینا نہ صرف یہ کہ صحت افزا ہے بلکہ وہ موٹاپا سے بھی بچتے ہیں۔

يونورسٹی آف میسوری میں غذائیت اور ورزش کے اسسٹنٹ پروفیسر اور اہم محقق ہیدر ليڈي کا کہنا ہے کہ “اس عمر میں بچوں کو معیاری کھانے کے علاوہ کچھ اور کھانا چاہئے ، خاص طور پر دیر سے دوپہر یا شام ناشتہ میں اور رغذا میں شامل ہو چکے کئی طرح کے فاسٹ فوڈ موٹاپا اور شکر میں اضافہ کرنے کے اہم ذرائع ہیں۔

ليڈي نے بتایا ک’’ اگر بچوں کو دوپہر میں ہائی پروٹین سنیک دیے جائیں تو وہ اگلے کچھ وقت میں غیر متوازن غذا کی خواہش بہت کم کرتے ہیں۔ یہ بچوں میںغیر صحت مند وزن بڑھنے سے بچنے کا ایک اچھا طریقہ ہے۔‘‘اس تحقیق میں 13 سے 19 سال کے نوجوان کو شامل کیا گیا، لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے لیے، جن میں سے کچھ عام وزن کے تھے اور کچھ زیادہ وزن کے ۔

محققین نے دیکھا کہ شام یا دیر دوپہر کےناشتے کا نوجوانوں کی بھوک اور اگلے کچھ وقت میں کھانے منتخب کرنے کے اندازپر کیا اثر پڑتا ہے۔انہوں نے نوجوانوں کے رویے کے مقابلے اس صورت میں بھی جب کچھ نے ناشتہ کھا لیا اور کچھ نے بالکل نہیں کھایا ۔

ليڈي نے کہا کہ ’’بھوک لگنے کی صورت میں، ہم نے پایا کہ جب نوجوانو ںنے صحت بخش ناشتہ (ہائی پروٹین سنیک )بکھا لیا ،تو اس کے بعد اگلے کچھ وقت میں انہوں نے پروٹین کھانے کی اشیاء ہی زیادہ منتخب کیں اور چربی کی مقدار کو کم کیا۔‘‘

’’اس کے ساتھ ہی، ہم نے یہ بھی دیکھا کہ صحت بخش ناشتےکی وجہ سے ان کے موڈ اور رویے میں تبدیلی بھی محسوس کی گئی ۔ ‘‘

صحت بخش ناشتے سے موڈ بھی بہتر ہوتا ہے ، سننے میں کتنا اچھا لگتا ہے، واقعی؟ یہ تحقیق کسی حد تک محدود بھی ہیں جیسے صرف 31 شرکاء پر یہ تحقیق کی گئی، جسے بہت چھوٹی سطح سمجھا جا سکتا ہے اور اس تحقیق کی مدت بھی کچھ ہی دنوں کی تھی، لیکن پھر بھی اگر محققین کے دعووں کو مکمل طور پر درست نہ بھی مانا جائے تو بھی ہائی پروٹین ڈائٹ ( صحت بخش متوازن غذا)کے فوائد سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے پہلے جون 2015 میں آئی ایک رپورٹ میں ذکر تھا کہ بھارت میں لوگ اپنی غذامیں مناسب مقدار میں پروٹین نہیں لے رہے ہیں ، تو یہ تبدیلی کے لیےایک اچھا اشارہ ہے۔

صحت بخش ناشتے(ہائی پروٹین سنیک )کو اپنی غذا میں شامل کرنا مشکل نہیں ،اگر آپ کے پاس کچھ اچھی تراکیب ہیں اور اگر نہیں ہیں ، تو یہاں کچھ تجاویز ہیں، جس پر عمل کیا جا سکتا ہے۔

ایڈیمین ،یہ جاپانی لفظ ہے جس کا مطلب ہے ابلی ہوئی پھلیاں، یعنی کہ سویا بین، اگرچہ بھارت میں زیادہ ترسویا بین کا استعمال رسوئی کاتیل بنانے میں ہوتا ہے پھر بھی آپ سویا بین حاصل کر سکتے ہیں، انہیں نمک ملے پانی میں 3 سے 5 منٹ ابال لیںاور کھائیں۔چونکہ سویابین میں قدرتی طور پر ذائقہ ہوتا ہے اس لیے کسی فلیور کا مسئلہ بھی نہیں ہے۔
उमामी

ٹوفو ، سویابین سے بنی مصنوعات کو کئی طرح سے تیار کیاجاتا ہے ،جسے تلنے کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن اس کے لیے تندور کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک نان اسٹک پین میں ذرا سا تیل ڈال کر آپ اسے سینک سکتے ہیں اور بچے کے ذائقہ مطابق اسے مسالہ ملا کر چٹپٹا بھی کر سکتے ہیں اس کے باوجود یہ بہت فیٹی نہیں هوگا۔

سویا دودھ ، عام دودھ کے مقابلےسویا دودھ مہنگا ہوتا ہے، لیکن اس کا استعمال بھی کم کرنا ہوتا ہے۔ ایک لیٹر کا ٹیٹراپیك ایک ہفتہ چل سکتا ہے، جوکہ کے بچے کی بھوک پر انحصار کرتا ہے۔ سویا دودھ فلیور میں حاصل ہے لیکن آپ سادہ لیں تو اس میں پھل ملا کرملک شیک بھی بنا سکتے ہیں۔ آپ سویا دودھ سے دہی بھی بنا سکتے ہیںاور کھانے کی دیگر اشیا بھی۔

دودھ – ڈبل ٹونڈ امنتخب کریں اور پھل ملا کر فوری طور پرطور ملک شیک بنائیں، یہ مکمل طور پرمتوازن و صحت بخش غذا ہے۔

انڈے – یہ انتہائی صحت بخش غذا میں شمار ہوتے ہیں، آپ ایک ہفتے کی ضرورت کے حساب سے انہیں ابال کرریفریجریٹر میں رکھیںاور استعمال کر یں۔ملاحظہ ہو، لنک
पोषक

مکسڈ گری دار میوے – آپ انہیں مخلوط طور پر خرید سکتے ہیں اور انفرادی خرید آپ کے بچے کے ذائقہ کے حساب سے مخلوط بھی کر سکتے ہیں۔ اس میں آپ کشمش اور دیگر میوے بھی ملا سکتے ہیں۔بادام اور پستہ میں سب سے زیادہ پروٹین ہوتا ہے۔

كددو کے بیج -کچے یا بھونے ہوئے، ان میں پروٹین کی مقدار ایک کپ میں 14 گرام ہوتی ہے۔

مونگ پھلی کے مکھن کا سینڈوچ – امریکہ میں بہت پہلے سے رائج مونگ پھلی کا مکھن اب بھارت میں بھی دستیاب ہے۔اسے ہول وهيٹ بریڈ پر لگائیں اور صحت بخش ناشتہ تیار کریں۔ اگر آپ کے بچے کہیں کہ یہ ان كے منہ میں چپک رہا ہے تو اس میں کچھ کیلے کے پتلے پتلے ٹکڑے یا شہد ملائیں ، یا پھر تھوڑا سا جاملگا دیں

همس – چنے سے بنا کچھ گاجر یا گوبھی کے ٹکڑوں کا یہ مرکب واقعی لاجواب ہوتا ہے۔

چنا – آپ اسے خریدکر گھر پر ہی بھون سکتے ہیں یا بھنا ہوا چنا بھی خرید سکتے ہیں۔ اس میں تھوڑے سی کٹی پیاز، ٹماٹر اور شملہ مرچ اور مرچ وغیرہ ملائیں اگر آپ کے بچے کو یہ پسند ہو تو، اور یہ ہائی پروٹين چاٹ تیار ہے۔

گوشت – بہت سے بھارتی سبزی خور ہیں ،لیکن کئی ہندوستانی نہیں ہیں ، اگر آپ گھر میں گوشت پکاتے ہیں اور رات کے کھانے کے بعد کچھ بچ جاتا ہے تو یہ آپ نوجوان کو دیں،ناشتے کے طور پر ۔ آپ بہت سی گوشت اشیا کی خریداری بھی سکتے ہیں۔ سبزی خوروں کے لئے سویا بیسٹ گوشت کی شکل میں بازار میں دستیاب ہے
ان میں سے کئی چیزیں تو آپ کےنوجوان بچے بھی اپنے آپ پکا سکتے ہیں۔يونورسٹی میں داخلے سے پہلے یہ ان کے لئے بہترین ٹریننگ بھی ہوگی اور یاد رکھیں، ان میں سے کئی چیزیں آپ کے چھوٹے بچوں کے لئے بھی فائدہ مند ہیں، اس میں عمر کی کوئی قید نہیں ہے ۔

اگر آپ اس مضمون میں دی گئی معلومات کو پسند کرتے ہیں تو برائے مہربانی فیس بک پر
کو لائک اور شیئر کریں کیونکہ اس اوروں کو بھی مطلع کرنے میں مدد ملے گی۔

اگر آپ اس مضمون میں دی گئی معلومات کو پسند کرتے ہیں تو برائے مہربانی فیس بک پر
https://facebook.com/FamiLifeUrdu کو لائک اور شیئر کریں کیونکہ اس اوروں کو بھی مطلع کرنے میں مدد ملے گی

Leave a comment

Your email address will not be published.