دوشیزاؤںکی خود اعتمادی کے لیےفیس بک نقصان دہ


دوشیزاؤںکی خود اعتمادی کے لیےفیس بک نقصان دہ

Photo: Omkr | Dreamstime.com

دوشیزاؤںکی خود اعتمادی کے لیےفیس بک نقصان دہ

رسائل اور ٹی وی کو اکثر الزام دیا جاتا ہے کہ ان ذرائع سے خواتین کے حسن کو قابل اعتراض اندازمیں پیش کیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے خواتین خود کا موازنہ ماڈل اور سیلبرٹی سے کرتی ہیں۔ اب ایک تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس بھی اس طرح کے کردار ادا کرتی ہیں، جب معاملہ جسمانی خوبصورتی سے وابستہ ہو، تو خواتین کی خود اعتمادی متزلزل ہو جاتی ہے۔

سائیکالوجی آف ویمن میں شائع جیسمین فیرڈولی کی قیادت میںکی گئی تحقیق میں محققین خود احتسابی (جب ایک شخص اپنے جسمانی خوبصورتی کو دیکھنے والے کی نظر سے جانچ تیار کرتا ہے) اور میڈیا کے مختلف ذرائع کے درمیان تعلقات کو تلاش کرنے کا تجربہ کیا۔ خود اعتمادی کی نسبت کا احساس، اعتماد میں کمی اور باڈی امیج کے مسئلے کو جنم دیا ۔ اس تحقیق میں 17 سے 25 سال تک کی اور لڑکیوں اور فیس بک، ٹی وی، میوزیک دیےگئے ویڈیو، فیشن میگزین اور انٹرنیٹ وغیرہ کے درمیان متوجہ کیا گیا۔

محققین نے پایا کہ میڈیا کے دو ذرائع فیشن پر مبنی رسالے اور فیس بک اور خود اعتمادی کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ حالانکہ ایسا پایا گیا ہے کہ فیشن میگزین کے لیے دوشیزائیں اپنا کم وقت خرچ کرتی ہیں جبکہ فیس بک پر زیادہ۔ اوسطاً یہ دوشیزائیں ہر روز دو گھنٹے فیس بک پر کئی بار فیس بک دیکھا کرتی ہیں اور ان کے روزانہ کے انٹرنیٹ استعمال کا 40 فیصد وقت ہوتا ہے۔
فیس بک پر وقت خرچ کرنے کے دوران، خواتین اکثر یہ خیال رکھتی ہیں کہ ان کی طرف سے اشترا کی جا رہی تصویر میں ان کے تاثرات اور انداز کیسا ہے، ان کی آخری تصویر کے مقابلے میں وہ کیسا ہے اور ان کے ساتھیوں کے تصویر کے مقابلے میں کیسی ہے ، یہ بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔اس دوران وہ اپنا مقابلہ سیلبرٹی سے نہیں کرتی ہیں، جبکہ فیشن میگزین کی وجہ سے وہ ایسا کرتی ہیں۔ یہ فرق اس لیے ہو سکتا ہے کیونکہ سوشل نیٹ ورکنگ انہیں يوزرس کے ساتھ ایک نجی رابطے کااحساس کراتا ہے۔ یہ ان کا اپنا علاقہ ہوتا ہے جہاں وہ اپنے جاننے والوں کے درمیان اپنی تصویر وغیرہ کا اشتراک کر کے دوستوں کے تاثرات جاننے کی کوشش کرتی ہیں ۔

اس کے آگے، پایا گیا ہے کہ خواتین جب اپنی تصویر وغیرہ اپ لوڈ کرتی ہیں تو وہ اپنے رشتہ داروں یا دوستوں یا ساتھیوں کی تصویر سے موازنہ کرتے ہوئے ستائیش کی تمنارکھتی ہیں،تاہم محققین خود اعتمادی پر اس کااثر ہونے کا دعوی کیا ہے ،لیکن وہ اس کی کوئی وجہ نہیں بتا سکے اور اس کے لیےمزید تحقیات کیے جانے کے حق میں ہیں۔

یہ بھی دیکھنا باقی ہے کہ، فیس بک کی وجہ سے خواتین میں خود اعتمادی دیکھی جا رہی ہے یا زیادہ خود معروضی عورتیں ہی فیس بک کی عادی ہیں اور ساتھ ہی کیا یہ تعلق دیگر ویب سائٹس کے معاملے میں بھی ، جیسے تصویر مرکوز سائٹس اسٹاگرام اور پنٹریسٹ۔ پھر بھی، فیس بک اور ممکنہ طور دوسرے سوشل میڈیا بندر اور عورتوں کی خود اعتمادی کے درمیان یہ تعلق مفید نہیں سمجھا جا سکتا۔

یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس معاملے میں حل کس طرح تلاش کیا جائے۔مصنفین کی طرف سے تجویز دی گئی ہے کہ فیس بک پراپیرنس پر مبنی تصاویرکم کی جائیں اور خواتین اس طرح کے صفحات کو فالو نہ کریں لیکن یہ قابل عمل نہیں لگتا۔

اگر آپ اس مضمون میں دی گئی معلومات کو پسند کرتے ہیں تو برائے مہربانی فیس بک پر
https://facebook.com/FamiLifeUrdu کو لائک اور شیئر کریں کیونکہ اس اوروں کو بھی مطلع کرنے میں مدد ملے گی۔

Leave a comment

Your email address will not be published.