کیابھارتی سوچ غذائی قلت کی وجہ ہے؟


Photo: Naypong | Dreamstime.com

کیابھارتی سوچ غذائی قلت کی وجہ  ہے؟
2005 میں قریب 40 فیصد بھارتی بچے پسماندہ (ایک عام بچے کے مقابلے میں قد کے بڑھنے میں سست رفتار) پائے گئے تھے۔ دس سال بعد دنیا بھر میں بھارتی بچوں کا قد سب سے کم ہوتا ہے اور یہ غذائی قلت کے معاملے میں دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ترقی کے معاملے میں اگرچہ بھارت کافی آگے ہے، لیکن بچوں کی ترقی کا مسئلہ اب بھی برقرار ہے۔ محققین کے ایک گروپ کا خیال ہے کہ وہ اس کے جائز وجہ معلوم کر سک تے ہیں۔

پسماندہ بچوں کے معاملے میں بھارت ہمیشہ کمزور رہا ہے۔ ایک بچے کا قد، اس کو ملنے والے غذائیت پر مشتمل ہوتا ہے جو بچے کی ذہنی اور مکمل ترقی کے لیے بھی ضروری ہے۔جو بالغ بچےپرورش سے محروم یا پسماندہ طبقے سےہیں وہ علم و تعلیم سے متعلق مہارت میں کمزور ہوتے ہیں، کم صحت مند زندگی جیتے ہیں اور اچھی تنخواہ والا روزگار حاصل نہیں کر پاتے۔بھارت میںپیدا ہو رہی اس کمزوری کے مسئلے سے منسلک پیشرو کےجائزوں میں زندگی گزارنے کا طریقہ سے وابستہ افعال یعنی کھلے میں رفع حاجت کرنا وغیرہ کو بھی مرکز ی وجہ سمجھا گیا ہے ۔
تاہم، امریکہ کے ادارے نیشنل بیورو آف اکنامک ریسرچ کی طرف سے شائع ایک مضمون میں اس مسئلہ کا تعلق اس بات سے وابستہ کر دیا گیا ہے کہ بھارتی سرپرست بیٹوں کو ترجیح دیتے ہیں۔خاص طور سے، مصنفین کا خیال ہے کہ سرپرست اپنی جانب سے بڑے بیٹے کی صحت اور غذائیت کے لیے وسائل پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اس سے دوسرے بچوں کا نقصان ہوتا ہے۔ اس اصول کو جانچنے کے لئے، محققین نے ہندستانی بچوں کا تقابل غذائی قلت سے متاثرہ علاقے افریقہ کے بچوں سے کیا۔ انہوں نے پایا کہ بھارتی بچیاں افریقی بچیوں کے مقابلے میں کم قد کی تھیں۔بھارتی لڑکی جس کی کوئی بڑی بہن بھی تھی، اس کا قد تو اور بھی کم پایا گیا۔ اس کانتیجہ یہ نکلا کہ ایک کے بعد ایک بیٹیاں ہونے پر ان کی پرورش کے تعلق سے سرپرست توجہ نہیں دیتے۔

اس کے برعکس، بھارت میں اگر سب سے بڑا بچہ لڑکا ہے تو وہ افریقہ کے ایسے ہی بچے کے مقابلے میں، طویل قد پایا گیا۔یہ صورت حال اس وقت بھی تھی جب سب سے بڑا آدمی اپنے خاندان کا سب سے بڑا بچہ نہیں تھا۔ اس کے علاوہ سب سے بڑے بیٹے کے بعد اس کے چھوٹے بھائی بہن اتنے طویل قد کے نہیں پائے گئے اور بچے زیادہ ہونے پر بعد کے بچوں میں یہی کمزوری دیکھی گئی۔ محققین نے پایا کہ پیدائش کے وقت سے ہی بچیاں مظر انداز کی جاتی ہیں ۔

سرپرست حمل کے وقت ہی سے غذائیت پر توجہ دیتے ہیں ،لیکن بچی کی پیدائش ہوتے ہی غذائیت پر توجہ دینا بند کر دیا جاتا ہے۔ تاہم جنسی ٹیسٹ پر روک لگا دی گئی ہے، لیکن غیر قانونی طریقے سے ہونے والے ٹیسٹ کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ بچیوں کو مزید نامساوات کا شکار ہونا پڑے گا۔ ایک محقق روہنی پانڈے نے’’ دی ہندو کو بتایا کہ ‘’’ بچیوں کے تعلق سے تعصب بڑھنے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ واضح رہے کہ ہمیں اس کی جڑ یعنی ‘بیٹے کو ترجیح دینے کے مسئلے کا براہ راست حل تلاش کرنا ہوگا ۔‘‘

پہلے بیٹے یا بچوں کے مطابق پائی گئی اس نا برابری کو ہندستان میں دو فرقوں میں کم دیکھا گیا۔ پہلا گروپ مسلم بچوں کا ہے اور دوسرا کیرالہ کی آبادی کا۔ مصنفین کا خیال ہے کہ ایسا اس لیےہے کیونکہ ہندو خاندانوں میں بیٹے پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ بڑھتی عمر کے سرپرست اکثر بڑے بیٹے کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور جائیداد بھی بڑے بیٹے کے ذمہ چھوڑی جاتی ہے۔ ساتھ ہی بیٹوں ہی کو موت کے بعد کے آخری رسوم کا ذمہ دیا جاتا ہے۔ جبکہ اسلام میں بیٹے پر اتنا زور نہیں دیا جاتا۔کیرالہ میں ماترو ونشی ثقافت نمایاں ہے۔

اگر ان نتائج کو درست سمجھا جائے تو یہ بھارت میں سنگین مسئلہ کے علامات ہیں۔ تازہ مردم شماری میں خواتین مرد بچوں کے تناسب میں جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اس سے واضح ہے کہ بیٹے کے تعلق سے ترجیح کی سوچ اور گہری ہوئی ہے۔ ایسے میں صرف چند بچوں کو غذائیت ملے گی اور باقی بچے نظرانداز ہوتے رہیں گے، جو بھارت کے لیے ایک مایوس کن مستقبل کا اشارہ ہے۔ غذائی قلت کی وجوہات کے بارے میں بتائے گئے حالات کے تعلق سے سمجھا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں مردوں کے لیے بھی صحت مند ساتھی ملنا مشکل ہوگا۔ایسے میں ملک کس طرح اپنے پیروں پر کھڑا رہے گا، یہ سمجھنا مشکل ہے۔

اگر آپ اس مضمون میں دی گئی معلومات کو پسند کرتے ہیں تو برائے مہربانی فیس بک پر
https://facebook.com/FamiLifeUrdu کو لائک اور شیئر کریں کیونکہ اس اوروں کو بھی مطلع کرنے میں مدد ملے گی۔

Leave a comment

Your email address will not be published.