بہترین شبیہ بنانے کے لیے کیا کریں؟ شیخی نہ بگھاریں!


अच्छी छवि बनाने के लिए क्या करें? शेखी न बघारें

Photo: Xubayr Mayo

بہترین شبیہ بنانے کے لیے کیا کریں؟ شیخی نہ بگھاریں!

کیا آپ ایسے کسی شخص کو جانتے ہیں جو اپنے منہ میاں مٹھو بنتا رہتا ہے؟ آپ کوکیسا لگتا ہے؟ اچھا یہی اپنے بارے میں سوچیئے کہ جب آپ ایسا کرتے ہیں تو دوسروں کو کیا محسوس ہوتاہے ؟ کسی کی طرف سے انتہائی جوش دکھانا، اپنی کی تعریف میں بہت بولنا، دوسرے اس سئ بور ہوتے ہیں یا انہیں غصہ آتا ہے، لیکن ایک تحقیق کے مطابق یہ ہے کہ جو لوگ ایسا کرتے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ دوسرے ان کی کامیابیوں کے لیےداد دیں گے، لیکن یہی معاملہ بر عکس ہوتا ہے تو، خود کی تعریف کرنے والے دوسروں کی اس وقت تنقید کرتے ہیں جب دوسرے خوش امید ہوں۔

انگلینڈ میں لندن کی سٹ يونورسٹی میںبی ہیوئر ار سائنس کے ماہر سكوپلٹ کا کہنا ہے کہ ’’ کسی کی نمائش پسندی کو دیکھنے یا سننے والے زیادہ تر لوگوں کو لطف کے علاوہ کچھ اور جذباتی تجربہ ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم خود نمائی کے شکار ہوتے ہیں ، سوشل میڈیا پر یا انفرادی طور پر دوسروں سے مثبت جواب کی توقع کرتے ہیں اور دوسروں کی منفی رائے پر توجہ نہیں دیتے۔‘‘

آن لائن دیے گئےمطالعہ < میں، ایک مختصر سروے میں لوگوںکی طرف سے ان کے خیال جانے گئے تو عمومی طور پر جب وہ خود نمائی کا اظہار کر رہے تھے اور جب کوئی دوسرا خود نمائی کا اظہار کر رہا تھا تو وہ کیا سوچ رہے تھے۔ شرکاء سے ان کے تجربے کے ساتھ ساتھ یہ بھی پوچھا گیا کہ اس صورت حال میں دوسرا تجربہ کیسا رہا؟

مقالے کے مصنف اسکوپولٹ اور ان کی ٹیم نے پایا کہ خود تعریف کرنے والے سوچتے ہیں کہ سننے والے خوش ہوں گے اور ان پر فخر کریں گے۔اصل میں، جو لوگ سننے کی حالت میں تھے انہوں نے اس پر غصہ جھنجھلاہٹ اور ذہنی انتشار کا اظہار کیا اور تو اور کچھ سننے والے لوگو نے نفرت اورحسد کااظہار کیا، جبکہ خود تعریف کرنے والوں نے جلن کے اظہار کی طلب کو بڑھا چڑھا کر ظاہر کیا۔

تو اگر ایک شخص دوسروں کے سامنے بہترین کردار کے اظہارلیے اپنی تعریف خود کر رہا ہوتا ہے، تو سننے والوں پر اس کا منفی اثر پڑتا ہے۔

اور جب ایک شخص اپنی کامیابیوں یا شکایات کے بارے میں کم بھی بولتا ہے اس وقت بھی دوسرے لوگ بوریت کا شکارہوتے ہیں کیونکہ بات چیت اسی ایک شخص کے بارے میں ہو رہی ہوتی ہے۔اس کی بجائے ایک شخص کو توازن میں بات رکھنا چاہئے تاکہ دوسرے بھی آپ کے بارے میں بات کرسکیں. یہ مشورہ ڈیل كارنیگ نے بھی اپنی سب سے بہترفروخت ہونے والی کتاب’’ ہاؤ ٹو وِن فرینڈس اینڈ انفلوینس پیپل ‘‘میں دیا تھا۔

بوسٹن میں ہارورڈ بزنس اسکول میں بیہیوئیر سائنس کے ماہر مائیکل نورٹن کے مطابق اگر کوئی اچھی شبیہ بنانا چاہے تو اسے اپنے کلیگ یا دوست سے اپنا تعارف پوچھنا چاہئے، یہ بہتر طریقہ ہے۔ نورٹن اس مشاہدے میں شامل نہیں ہیں۔

نورٹن نے کہا کہ’’ آپ کے لیےاگر کوئی اور تعریف کرتا ہے تو یہ بہت اچھا طریقہ ہے۔اس سے اچھا پیغام بھی نشر ہوتا ہے اور آپ کی شبیہ کریڈٹ لینے والی نہیں بنتی ۔

اس کا مضمون’’ سائکلوجیکل سائنس‘‘ نامی جرنل میں شائع ہوا ہے۔

اگر آپ اس مضمون میں دی گئی معلومات کو پسند کرتے ہیں تو برائے مہربانی فیس بک پر
https://facebook.com/FamiLifeUrdu کو لائک اور شیئر کریں کیونکہ اس اوروں کو بھی مطلع کرنے میں مدد ملے گی

Leave a comment

Your email address will not be published.