زکام کس طرح پھیلتا ہے


چھيكنا؟ ناک، گلا بند ہو جانا؟ سردی ہو جانا کیا ہے؟لوگوں کو زکام کس طرح ہوتا ہے؟
ایک شخص زکام میں اس وقت مبتلا ہو سکتا ہے ، جب زکام کا ایک وائرس ناک یا گلے کے اندرونی حصے سے چپک جاتا ہے. زکام کے وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ وائرس دروازوں کے ہینڈل، لفٹ کے بٹن، ریلنگ اور برتن وغیرہ کے آلودہ ہوجانے سے منتقل ہو سکتے ہیں. وائرس جسم سے باہر کی سطح پر كئی گھنٹوں تک فعال رہ سکتے ہیں، کبھی کبھی آٹھ گھنٹوں تک بھی فعال رہتے ہیں اور ہوا ، ان کی منتقلی کا دوسرا ذریعہ ہے متاثرہ شخص کےچھینکنے اور کھانسنے سے اس کا انفیکشن پھیل سکتا ہے۔
زکام میں مبتلا لوگ سب سے زیادہ متعدی ہوتے ہیں اور ان میں اس علامات ظاہرہونے سے پہلے ہی یہ دوسروں میں وائرس کو پھیلا دیتے ہیں اور پھر پہلی بار علامات ظاہر ہونے کےدو چار دنوں میں متاثرہ خاندان کے دوسرے لوگ اس کی زدمیں آ جاتے ہیں ، انہیں اس سے بچانے کے لیے جب خاندان کا پہلا رکن اس کی زد میں آئے، تو ابتدائی دور میں ہی دوسروں کو اس سے رابطہ میں آنے سے بچایا جائے۔
کیا ٹھنڈے موسم اور زکام کی زد میں آنے کے درمیان کوئی تعلق ہے؟
سرد موسم اپنے آپ میں زکام کی وجہ نہیں ہے، اگرچہ یہ کسی شخص کو تھکا کر اور اس بیماری کے خلاف مزاحمت کو کمزور بنا کر اسے بیمار کرسکتا ہے۔اس کے علاوہ، سرد موسم کے ساتھ ہوا خشک ہونے کی وجہ سے ناک کا راستہ خشک ہوسکتا ہے، جس وائرس کے حملہ آسان ہو جاتا ہے۔انتہائی گرم موسم میں بھی زکام کی زد میں آنا ممکن ہے۔
تاہم، اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جب موسم ٹھنڈا ہوتا ہے تو زیادہ لوگ زکام کی زد میں آ جاتے ہیں،اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زکام کے وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتے ہیں جب بند مقامات پر لوگوں کی تعداد بڑھتی ہے، جیسا کہ سردی کے موسم میں جب اکثر لوگ دروازے بند کرکے رہتے ہیں، اس سےانفیکشن کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔زکام سال کے دوسرے اوقات میں بھی تب زیادہ ہوتا ہے جب لوگ دروازے بند کر کے دوسرے لوگوں کے قریب رہتے ہیں، جیسے کہ موسم گرما میں ایئی کنڈیشنڈ مقامات پر، اور بارش میں۔
زکام کی زد میں آنے یا پھیلنے سے روکنے کے لئے کچھ احتیاطی تدابیر کیا ہو سکتی ہیں؟
ایک شخص زکام کی زد میںاس وقت آتا ہے، جب وائرس اس کی ناک یا گلے کو متاثر کرتے ہیں۔صحت مند شخص کے مریض افراد کے رابطہ میں آنے کے امکان کو محدود کرنے سے مدد ملے گی، لیکن شاید یہ ممکن نہیں ہے. ناک، منہ اور آنکھوں کو چھونے سے بچنے کے لیے بھی ایک اچھا خیال ہے لیکن عمل کرنا مشکل ۔اس لیے ماہر مشورہ دیتے ہیں کہ بار بار صابن سے ہاتھ دھوتے رہیں یا ہینڈسینٹائزر کریں۔ استعمال ایسا دونوں کو ہی کرنا چاہئے جنہیں انفیکشن ہو اور انہیں بھی جنہیں نہ ہو. وہ لوگ جنہیں پہلے ہی زکام ہو انہیں اپنی کہنی کو موڑ کر، ناک اور منہ کو پوری طرح سے ڈ ھك كر چھيكنا یا كھاسنا چاہئے، تاکہ وائرس پاس میں بیٹھے ہوئے دوسرے لوگوں تک نہ پہنچے۔
اگر آپ اس مضمون میں دی گئی معلومات کوپسند کرتے ہیں تو برائے مہربانی فیس بک پر ہمارے صفحہ کو لائک اور شیئر کریں، کیونکہ اس سے اوروں کو بھی مطلع کرنے میں مدد ملے گی۔

Leave a comment

Your email address will not be published.